ملالہ یوسفزئی کا فلسطینی سٹوڈنٹس کے لیے سکالرشپ پروگرام شروع کرنے کا اعلان

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی جانب سے فلسطینی طلبہ کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اسکالرشپ کا اعلان کر دیا گیا۔ ملالہ فنڈ کی شریک بانی ملالہ یوسفزئی نے آکسفورڈ پاکستان پروگرام کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں فلسطینی طلبہ کے لیے ایک نئی اسکالرشپ کا اجرا کیا جا رہا ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ میں 80 فیصد سے زائد سکول اور تمام یونیورسٹیاں یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں یا انہیں شدید نقصان پہنچا ہے، غزہ کے تعلیمی نظام کی تعمیر نو کے لیے مستقل جنگ بندی اور کئی سالوں کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ملالہ یوسفزئی نے مزید کہا کہ یہ اسکالرشپ محض تعلیمی مدد نہیں ہے بلکہ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا ایک اشارہ بھی ہے۔ یہ اسکالرشپ حاصل کرنے والے فلسطینی طلبہ اکتوبر 2024 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے مارگریٹ ہال میں اپنی تعلیم کا آغاز کریں گے۔

دوسری جانب ملالہ یوسفزئی نے اس اسکالرشپ پروگرام کے متعلق سوشل میڈیا ایپ ”ایکس“ پر ٹویٹ میں لکھا کہ غزہ کا کوئی مستقبل نہیں ہو سکتا جب تک غزہ کے بچوں کو زندہ رہنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے محفوظ جگہ میسر نہ ہو۔

انہوں نے مزید لکھا کہ غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 80 فیصد تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے، 17 جنوری کو اسرائیلی بمباری سے غزہ کی آخری یونیورسٹی بھی ملبے کا ڈھیر بن گئی۔

ملالہ نے مزید لکھا کہ میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں نے فلسطینی طلباء کے لیے ایک نئے گریجویٹ اسکالرشپ کا اعلان کیا ہے، جو آکسفورڈ پاکستان پروگرام، ریفیوجی اکیڈمک فیوچرز پروگرام، اور ملالہ فنڈ کے ساتھ جاری کاوشوں کا حصہ ہے۔

انہوں نے ٹویٹ میں مزید لکھا کہ میں جلد ہی فلسطینی تنظیموں اور انسانی ہمدردی کی کوششوں کے لیے اضافی مدد کا اعلان کروں گی، ملالہ فنڈ نے حالیہ مہینوں میں اس مقصد کے لیے پہلے ہی $300,000 سے زیادہ کا عزم کیا ہے۔

ملالہ کا یہ اقدام ان کی تعلیم کے فروغ کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے، جو دنیا بھر میں تعلیم کے حق کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اسکالرشپ کا مقصد فلسطینی طلبہ کو آکسفورڈ یونیورسٹی جیسے عالمی معیار کے تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے تا کہ وہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں