لندن میں لاکھوں افراد کا غزہ میں نسل کشی روکنے کے لیے احتجاج

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں فلسطینی نکبہ کی 76 ویں سالگرہ کے موقع پر فلسطین میں نسل کشی روکنے پر ایک زبردست احتجاج کیا گیا، جس میں تین لاکھ سے زیادہ مظاہرین نے شرکت کی۔ مظاہرے کا آغاز مورٹیمر اسٹریٹ پر برطانوی ریڈیو اسٹیشن سے ہوا،جس کے بعد میں یہ جلوس برطانوی حکومت اور پارلیمنٹ کے صدر دفتر کی جانب آگے بڑھا۔

برطانیہ میں فلسطینی فورم، برٹش فلسطین سولیڈیریٹی کمپین (PSC)، فرینڈز آف الاقصیٰ آرگنائزیشن (FOA)، اسلامک لیگ ان برٹین (MAB)، اسٹاپ دی وار آرگنائزیشن اور دی اسٹاپ، نیوکلیئر ویپن آرگنائزیشن جیسی تنظیموں کی جانب سے غزہ میں نسل کشی ختم کرنے اور فلسطینی عوام کی حمایت میں عالی شان جلوس کا اہتمام کیا گیا تھا۔

برطانیہ میں جلوس کے منتظمین میں شامل فلسطینی فورم کے نائب صدر عدنان حمیدان نے کہا کہ آج کے مظاہرے میں تین بنیادی پیغامات ہیں، پہلا مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت بند کی جائے، دوسرا مطالبہ غزہ میں نسل کشی کو فوری طور پر روکا جائے اور تیسرا فلسطینیوں کو اپنے گھروں واپس جانے کا حق دیا جائے۔

اس مظاہرے میں جیریمی کوربن نے فلسطینیوں کی حمایت کی اور کہا کہ عالمی برادری نے اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر نہیں نبھایا اور غزہ میں نسل کشی کو روکنے میں ناکامی ہوئے ہیں۔ برطانوی آرٹسٹ یوسف اسلام، جن کا نام”کیٹ سٹیونز” ہے، نے بھی اس موضوع پر اظہارِ رائے کیا اور مظاہرے کے پیغام کی حمایت کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں