کسی سٹوڈنٹ کی ہلاکت نہیں ہوئی، سوشل میڈیا پر پیڈ وی لاگرز پراپیگنڈا کر رہے ہیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

وفاقی وزراء اسحاق ڈار، عطاءاللّٰہ تارڑ اور امیر مقام نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بشکیک میں پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے مگر اب کرغیزستان میں حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمعہ کے روز پیش آنے والے واقعے میں 16 غیر ملکی طلباء زخمی ہوئے تھے، جن میں 4 یا 5 پاکستانی طلباء بھی شامل ہیں، لیکن کسی پاکستانی طالب علم کی ہلاکت کی خبر بالکل غلط ہے اور اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بشکیک واقعہ کو لیکر کچھ سوشل میڈیا اور پیڈ وی لاگرز منفی اور جھوٹا پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف خود اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں، 130 پاکستانی طلباء پہلے ہی وطن واپس پہنچ چکے ہیں اور آج مزید 540 طلباء واپس آئیں گے۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ایئر فورس کا ایک طیارہ طلباء کو واپس لانے کے لیے بشکیک جائے گا، 50 کے قریب طلباء نے پاکستانی سفارتخانے میں اپنی رجسٹریشن کروائی ہے؛ اور جیسے ہی طیارے میں جگہ مکمل ہو گی، تو وہ ان طلباء کو لے کر وطن واپس آئے گا۔

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ کرغیزستان میں موجود پاکستانی سفیر نے تازہ صورتحال کی مکمل تفصیلات فراہم کی ہیں، اس واقعے میں کل 16 طلباء زخمی ہوئے ہیں جن میں چند پاکستانی طلباء بھی شامل ہیں مگر کرغیز حکام نے تصدیق کی ہے کہ کسی پاکستانی طالبعلم کی ہلاکت نہیں ہوئی۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ کرغیز وزیر خارجہ نے انہیں بتایا ہے کہ ان کے ملک کی اپوزیشن حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مہم چلا رہی ہے اور کہتی ہے کہ غیر ملکی طلباء کیوں آتے ہیں؟؛ میں اور امیر مقام وزیراعظم کی ہدایت پر آج کرغیزستان جا رہے تھے مگر کرغیز وزیر خارجہ نے درخواست کی کہ حالات کنٹرول میں ہیں، آپ کے آنے کی ضرورت نہیں ہے مگر افسوس کہ سوشل میڈیا پر گمراہ کن معلومات دی گئیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو بھی طلباء واپس آنا چاہتے ہیں، ہم انہیں سہولت دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور بشکیک واقعے کے بعد وزارت خارجہ میں ایمرجنسی یونٹ بھی بحال کر دیا گیا ہے، کرغیز وزیر خارجہ نے طالبات کے ساتھ زیادتی کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور حالات قابو میں ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات عطاءاللّٰہ تارڑ نے کہا کہ 6 پاکستانی طلباء زخمی ہیں اور مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں، افسوس کہ ایک جماعت کی طرف سے اس واقعے پر جھوٹا پروپیگنڈا پھیلایا گیا، اسی جماعت نے پاکستانی طلباء کی ہلاکتیں کی چھوٹی خبریں پھیلائیں اور انکے والدین کو خوفزدہ کیا کہ ان کی بچیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

عطاءاللّٰہ تارڑ نے مزید کہا کہ ایک بنگلا دیشی طالبعلم کی تصویر لگا کر کہا گیا کہ پاکستانی بچہ شہید ہو گیا ہے۔ کرغیز حکام کے مطابق حالات بلکل نارمل ہیں، جو طلباء واپس آنا چاہتے ہیں ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جا رہا ہے اور حکومت اس معاملے پر اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں