کرغزستان میں مقامی غنڈوں کی جانب سے پاکستانی میڈیکل سٹوڈنٹس پر تشدد کیوں؟

کرغزستان میں سٹوڈنٹس کے مابین جھگڑوں کے بعد صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی ہے کہ مقامی مسلح گروہوں اور جتھوں کی جانب سے غیر ملکی خصوصا ایشیائی سٹوڈنٹس کے ہاسٹلز میں زبردستی گھس کر ان پر شدید تشدد کر نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں کئی پاکستانی سٹوڈنٹس کے زخمی اور ہلاکتوں کی بھی اطلاعات آرہی ہیں

ایم این بی اردو کو کرغزستان سے سٹوڈنٹس کی جانب سے بذریعہ واٹس ایپ بھیجی گئی اطلاعات کے مطابق مقامی سٹوڈنٹس اور جھتھوں کے لیے یہ معمول کا کام ہے ان کی جانب سے غیر ملکی سٹوڈنٹس کو روک کر زبردستی پیسے مانگے اور کبھی کبھار چھین لیے جاتے ہیں کئی بار سٹوڈنٹس کی جانب سے مقامی پولیس کو بھی شکایت کی کوشش کی گئی لیکن پولیس بھی کاروائی سے گریزاں دکھائی دیتی ہے

سٹوڈنٹس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جس پر غیر ملکی (مصری) سٹوڈنٹس کی جانب سے مزاحمت کی گئی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، ویڈیو دیکھتے ہی ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگوں نے غیر ملکی سٹوڈنٹس کے ہاسٹلز میں گھس کر ان کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا

اس حوالے سے پاکستانی سٹوڈنٹس کی شکایات پر پاکستان میں بھی ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے کہ ابھی تک حکومت کی جانب سے وزارت خارجہ نے معاملہ کیوں نہیں اٹھایا اور پاکستانی سٹوڈنٹس کو ان کے حال پر چھوڑنے کی بجائے واپس کیوں نہیں لایا جا رہا

اس حوالے سے اب تک حکومتی سطح پر خیبرپختونخواہ سے پہلی آواز اٹھی ہے، مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں سے جھگڑے کے نتیجے میں وہاں حملے ہورہے ہیں۔بیرسٹر محمد علی سیف کے مطابق خبریں آرہی ہیں کہ وہاں 3 پاکستانی طلباء شہید ہوچکے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حملوں کی روک تھام اور پاکستانی طلبہ کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں

دوسری جانب دنیا بھر میں زیر تعلیم میڈیکل سٹوڈنٹس کے حقوق کے لیے کام کرنے والی پاکستانی تنظیم جسٹس فار فارن میڈیکل گریجوایٹس کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے

جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستانی سٹوڈنٹس پر حملوں کا آغاز گزشتہ روز بشکیک کی گلیوں میں ہوا جو رات گئے تک جاری رہا

جسٹس فار ایف ایم جیز کا دعوی ہے ہزار ہزار کے جھتھوں نے اپارٹمنٹس اور ہاسٹلز میں گھس کر غیر ملکی خصوصا پاکستانی سٹوڈنٹس پر تشدد کیا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو سے 3 سٹوڈنٹس کی ہلاکت بھی ہوچکی ہے جبکہ زخمی سٹوڈنٹس کی تعداد کے حوالے سے واضع اعدادوشمار سامنے نہیں آسکے ہیں

جسٹس فار میڈیکل گریجوایٹس کے پیٹرن انچیف ڈاکٹر زیشان نور ملک، صدر ڈاکٹر مبین حیدر اور دیگر رہنماؤں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے فی الفور پاکستانی سٹوڈنٹس کو کرغستان سے پاکستان واپس لائے اور کرغزستان حکومت سے مطالبہ سفارتی سطح پر اُٹھاتے ہوئے متعلقہ سفیر سے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا جائے

جسٹس فار ایف ایم جیز نے جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے ہنگامی بنیادوں پر معاملے کو نہ دیکھا گیا تو پاکستان میں کرغزستان سفارتخانے کے بعد دھرنا دیا جائے گا اور جب تک پاکستانی سٹوڈنٹس کو واپس نہیں لایا جاتا احتجاج جاری رہے گا

اس حوالے سے مختلف صارفین کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ویڈیوز شئیر کرتے ہوئے اس خدشے کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کئی پاکستانی سٹوڈنٹس جان کی بازی ہار چکے ہیں

صارفین کی جانب سے وزیر داخلہ اور خارجہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ فی الفور مداخلت کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں