تعلیمی شعبے میں وزیراعظم شہباز شریف کا بڑا اقدام

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قومی تعلیمی ایمرجنسی کے حوالے سے اہم فیصلے اور اعلانات جاری کر دیے گئے، جس میں وزیراعظم نے وفاقی وزارت تعلیم کو ملک بھر میں اسکول سے باہر بچوں سے متعلق جامع رپورٹ بنانے اور رپورٹ میں ان بچوں کو اسکول کی طرف واپس لانے سے متعلق فوری شارٹ ٹرم پلان بھی مرتب کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

وفاقی وزارت تعلیم کو رپورٹ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم کو رپورٹ کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسکولز سے باہر بچوں کو واپس اسکول لانے کے لیے آئندہ 5 سالوں میں 25 ارب روپے کا چیلنج فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔

وفاقی وزارت تعلیم میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ٹاسک فورس بھی قائم کی جائے گی۔ اس ٹاسک فورس میں وفاقی اور صوبائی نمائندگان سمیت دو طرفہ اور دو سے زائد پارٹنرز بھی شامل ہوں گے، جو صوبائی اور قومی سطح پر تعلیمی مسائل کی شناخت کریں گے۔ ٹاسک فورس اپنی رپورٹ وزیراعظم آفس کو براہ راست پیش کرے گی۔

حکام کے مطابق موجودہ حکومت نے صوبائی اور وفاقی بجٹ میں جی ڈی پی کا 4 فیصد لینے کا ارادہ کیا ہے تا کہ تعلیمی بجٹ کو بڑھایا جا سکے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی تعلیم کے بجٹ کو 2029 تک جی ڈی پی کے 4 فیصد تک بڑھایا جائے گا۔

وفاقی وزارت تعلیم تمام صوبوں سے مشاورت کے بعد فاسٹ ٹریک بیسز پر ماہر اساتذہ کو بھرتی کرے گی۔ یہ بھرتیاں پورے ملک میں کی جائیں گی تا کہ تعلیمی معیار میں بہتری لائی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں