مذاکرات ناکام، آزاد کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

آزاد جموں و کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے مابین مذاکرات ناکام ہوگئے۔ سیئنر رہنما جوائنٹ ایکشن کمیٹی سردار عمر نذیر کشمیری نے مارچ کو آگے بڑھانے کا اعلان کر دیا۔

سردار عمر نذیر کشمیری نے جاری مذاکرات کو حکومتی جھوٹ اور فراڈ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آٹے کی سبسڈی کے علاوہ کسی دوسرے مطالبے کو حکومت نے ماننے سے انکار کر دیا ہے، تمام قافلے اب مظفرآباد کی طرف مارچ کریں۔

واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج آج چھوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے۔ گزشتہ تین روز سے آزاد کشمیر میں کاروباری مراکز بند، پہیہ جام ہڑتال جاری رکھی گئی تھی۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک پُرتشدد رخ اختیار کر گئی تھی، کشیدگی کے باعث آزاد کشمیر بھر میں انٹرنیٹ سروس گزشتہ رات سے معطل رہی، دارالحکومت مظفرآباد میں کاروباری مراکز بند اور پہیہ جام ہڑتال جاری تھی۔

جبکہ میرپور میں گزشتہ روز مظاہرہ خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا تھا، مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی تھی، گولی لگنے سے سب انسپکٹر عدنان قریشی شہید ہو گئے تھے۔

مظاہرین کے پتھراؤ سے ایس پی خاورعلی ، تحصیلدار رضوان لطیف سمیت 28 اہلکار بھی زخمی ہوئے تھے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں