بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، یاسین ملک کی طویل غیرقانونی حراست جاری

بھارت میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیاں جاری، بھارت نے یاسین ملک کو طویل عرصے سے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔ بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔ بھارت میں مذہبی اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مظالم میں تیزی مزید آئی ہے۔

مودی اپنے اقتدار کو بڑھانے کے لئے ہندوتوا سوچ کا سہارا لیتے ہوئے پورے ملک میں ہندو انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی طریقے سے قابو کیا ہوا ہے۔ مقبوضہ کشمیر اب دنیا کی سب سے بڑی اوپن ایئر جیل بن گئی ہے۔ کشمیر میں بھارت 9 لاکھ فوجیوں کے ذریعے زبردستی غاصب ہے۔ بھارت نے کشمیری رہنما یاسین ملک کو بھی غیر قانونی طور پر پابند سلاسل کر رکھا ہے۔

یاسین ملک کو 2008 کے این ائی اے ایکٹ کے تحت 30 سال پرانے جھوٹے مقدمے میں جیل میں قید کر کے رکھا ہوا ہے۔ یاسین ملک کی 11 سالہ معصوم بیٹی رضیہ نے پوری دنیا سے اپنے باپ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور انکی شریک حیات مشعل ملک بھی دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ دکھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے بھارت میں یاسین ملک کی غیر قانونی حراست پر ایک بیان میں کہا کہ ہم نے متعدد مواقع پر بھارتی حکام کے یاسین ملک کے خلاف سزائے موت کے مطالبے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ سال او آئی سی کے رابطہ گروپ نے بھی اپنے بیان میں اس اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔

انکا کہنا تھا کہ یاسین ملک کو سنائی گئی عمر قید کی سزا غیر منصفانہ ہے، وہ بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بہت بری حالات میں قید ہیں۔ یاسین ملک کی صحت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، انہیں اپنے خاندان اور علاج تک رسائی نہیں دی جا رہی۔

دفترخارجہ نے مزید کہا ہے کہ ہم نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ یاسین ملک کے خلاف جھوٹے مقدمات کو ختم کر کے انہیں رہا کرے اور معیاری علاج فراہم کرے، انہیں اپنے خاندان کے ساتھ آزادی سے رہنے دے۔ ہم نے یاسین ملک کا کیس بین الاقوامی اداروں اور فورمز پر بھی اٹھایا ہے، ہم یاسین ملک کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں