سوشل میڈیا کو قابو میں کرنے کے لیے وزیراعظم نے پیکا ایکٹ 2016 کی منظوری دے دی

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے پیکا ایکٹ 2016 میں ترمیم کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ، پیکا ایکٹ 2024 کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن ایجنسی قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ نیا تجویز شدہ پیکا بل 2024 کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

پیکا قانون ترمیمی بل کے ذریعے ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزارت آئی ٹی پیکا ترمیمی بل 2024 اور ڈیجٹل رائٹس پروٹیکشن ایجنسی کی انچارج ہو گی۔ پیکا ترمیمی بل اور ایجنسی کے قیام کی تجویز کابینہ کی قانونی اصلاحات کمیٹی کی جانب سے دی گئی تھی۔

اتھارٹی حکومت کو ڈیجیٹل حقوق کے معاملات پر مشاورت کرے گی۔ یہ ڈیجیٹل اتھارٹی انٹرنیٹ کے استعمال کو ذمہ دارانہ بنانے اور قوانین و ضوابط کو لاگو کرنے کو یقینی بنائے گی۔ اس اتھارٹی کا مقصد مثبت ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو فروغ دینا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ تعاون کر کے اس کو ترقی دینا ہو گا۔

ڈیجیٹل رائٹس اتھارٹی آن لائن مواد کو قانونی طور پر ریگولیٹ کرے گی۔ اس اتھارٹی کا فرض ہو گا کہ سوشل میڈیا پر قانون کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے اور نئے قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کرے۔ اس کے علاوہ، یہ اتھارٹی ملوث افراد اور گواہوں کو بھی طلب کر سکے گی۔

ڈیجیٹل رائٹس اتھارٹی ڈیجیٹل حقوق کے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے قواعد بنا سکے گی۔ اتھارٹی ایک محفوظ اور قابل اعتماد ڈیجیٹل ماحول بنانے کے لیے آن لائن دائرے میں صارفین کی حفاظت کو فروغ دے گی اور بنیادی حقوق کی حفاظت بھی کرے گی۔ واضح رہے کہ وزارت آئی ٹی نے پچھلے ہفتے نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن اتھارٹی کی تشکیل کے بارے میں ایس ار او جاری کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں