سکولز سے باہر 2 کروڑ 60 لاکھ بچوں کی تعلیم کے لیے حکومتی پلان تیار

ملک بھر میں اسکولوں سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے کے مشن کی تکمیل کے لیے وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کیا گیا ہے، جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وفاقی وزارت تعلیم نے اس پر کام بھی شروع کر دیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کے لئے ملکی سطح پر “نیشنل ایجوکیشن ایمرجنسی ٹاسک فورس” بنانے کی ہدایت دی ہے۔ اس ٹاسک فورس میں وزراء تعلیم اور قومی و بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو شامل کیا جائے گا، جں کی ذمہ داری تعلیمی ایمرجنسی کے حالات کی نگرانی اور اسکولوں اور طلباء کو گائیڈ لائنز فراہم کرنا ہو گا۔

ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ ائندہ پانچ سال تک کے لیے کیا جائے گا، جس کے تحت سکولز سے باہر دو کروڑ 60 لاکھ بچوں کی تعلیمی اداروں تک رسائی یقینی بنائی جائے گی۔ پاکستان میں اسکول جانے والے بچوں میں سے 40 فی صد سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں بچیوں کی شرح تقریباً 54 فی صد ہے۔

وزارتِ تعلیم پاکستان بھر میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ پر کام کر رہی ہے۔ اس حوالے سے وزارت تعلیم کی جانب سے کانفرنس بھی بلائی گئی ہے۔ یہ کانفرنس 8 مئی کو وزیر اعظم آفس میں منعقد کی جائے گی، جس کا افتتاح وزیراعظم شہباز شریف خود کریں گے۔

کانفرنس میں ملک کے چاروں صوبوں کے وزراء تعلیم شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی نمائندگان اپنی تجاویز پیش کریں گے۔ اس کانفرنس میں برطانوی ہائی کمشنر، یونیسیف، ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں