مذاہب کے معاملے پر پاکستانی تشدد کو پسند نہیں کرتے، امریکی وفد

سسٹین ایبل سوشل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) اور آل نیبرز امریکا کی جانب سے پاکستان میں بین الاقوامی مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی سمٹ 2024 کا انعقاد کیا گیا، جس میں عالمی رہنماؤں، مذہبی شخصیات، سرکاری حکام اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد پاکستان اور دیگر ممالک میں مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریوں کے درمیان تعاون اور افہام و تفہیم کو بڑھانا تھا۔

سربراہی اجلاس میں مذہبی آزادی کو پیش آنے والے چیلنجز اور دنیا بھر میں بڑھتی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانے پر زور دیا گیا۔ مذہبی آزادی اور بین المذاہب ہم آہنگی سمٹ میں امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کو بھی اجاگر کیا گیا۔

اس کانفرنس میں آل نیبرز آرگنائزیشن نے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی تعلیمات کی اہمیت پر زور دیا، جس میں امریکی وفد نے شرکت کی اور پاکستان کے مختلف بڑے شہروں لاہور، کراچی، کوئٹہ، پشاور اور جڑانوالہ کے دورے بھی کیے۔

اس موقع پر اسلام آباد میں امریکی وفد نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگوں سے ملاقات کی ہے، یقینی طور پر پاکستان میں مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ مکمل طور پر آزاد ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی عبادات کرتے ہیں۔

وفد کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں مذہبی معاملے میں اقلیتیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے اور مذہب کے معاملے میں تمام پاکستانی تشدد کو ہرگز پسند نہیں کرتے۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور یہاں مختلف مذاہب کو ماننے والے لوگ بغیر کسی تفریق کے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔

امریکی وفد نے پاکستان میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے پر خوب سراہا اور پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں