چوتھے ٹی ٹوینٹی میں نیوزی لینڈ سے شکست پر رمیز راجہ بھی بول پڑے

سابق کرکٹر و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ رمیز راجا نے نیوزی لینڈ کی ایوریج ٹیم کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے میچوں میں شکست کے بعد ٹیم میں کی جانے والی تبدیلیوں کو “نام نہاد تجربہ” قرار دیدیا۔

سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے اپنے یوٹیوب چینل پر پاکستانی ٹیم کو شدہد تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بینچ اسٹرنتھ کا بہانہ بنانے کے بجائے میچ جیتنے پر توجہ دینے پر بھی زور دیں، ایسے فیصلوں سے بطور ٹیم حوصلہ کمزور ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی ٹیم میں “نام نہاد تجربہ” کیا جا رہا ہے، ٹی ٹوئنٹی میچ وہی کھلاڑی کھیل رہے ہیں صرف انکی پوزیشنز مسلسل تبدیل کی جا رہی ہیں جس کے باعث ٹیم کو نقصان پہنچ رہا ہے، بینچ اسٹرنتھ کا مطلب ٹیم کے دوسروں کھلاڑیوں کو موقع دینا ہوتا ہے، شکست پر جواز بنانا بند کریں اور پرفارمنس بہتر بنانے پر توجہ دیں۔

رمیز راجا نے سوال اٹھایا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہا آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے ایسے تجربات کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ عموماً میگا ایونٹ سے قبل ٹیم سیٹکی جاتی ہے تا کہ وہ اس بڑے موقع کے لئے بہترین شکل میں تیار ہو سکیں، یہاں پاکستان کو نیوزی لینڈ کی ایوریج ٹیم سے مسلسل دو بار شکست ہو رہی ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ کچھ کھلاڑی مارڈن ڈے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کو زیادہ ترجیح دینے میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے وہ بہترین اسٹرائیک ریٹ نہیں بنا پا رہے اور ان کی وکٹیں گنوا دی جا رہی ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ کچھ اسٹرائیک ریٹ میں تبدیل ہوتا رہتا ہے لیکن اس کے باوجود فوراً نتائج حاصل نہیں ہوتے، اگر ٹیم کو ان تبدیلیوں کا بہتر استفادہ نہیں کیا گیا تو اسکا نتیجہ منفی ہی ملے گا۔

واضح رہے کہ 25 اپریل کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے میچ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پاکستان کو انکے ہوم گراؤنڈ پر 4 رنز سے شکست دیکر سیریز میں 1-2 کی برتری حاصل کی تھی۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ ٹیم کے درمیان 5 ٹی ٹوئنٹی سیریز کا پانچواں اور آخری میچ 27 اپریل کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہی کھیلا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں