ایران کے اسرائیل پر حملے کے حوالے سے حکومت پاکستان کا بیان کمزور اور ناکافی، پی ٹی آئی

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے عالمی دہشت گرد ریاست اسراٸیل کی جارحیت پر اسلامی ملک ایران کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارواٸی پر پاکستانی دفترِ خارجہ کے بیان کو کمزور، غیرمؤثر، مبہم اور ناکافی قرار دے دیا۔ انہوں نے عوامی مینڈیٹ پر کھلے ڈاکے کے نتیجے میں قابض حکومت کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران-اسرائیل کے درمیان تنازعات پر قومی امن کی ترجمانی میں ناکامی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت بھی کی۔

ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ اگر قومی قیادت کو عوامی مینڈیٹ کے مطابق منتخب کیا جاتا، تو ایسا منصب حاصل ہوتا جو قومی مفاد کی روشنی میں ہوتا اور مسلم امت کو درست رہنمائی فراہم کرتا۔ بےگناہ عورتوں، بچوں اور بزرگ افراد سمیت 35 ہزار فلسطینیوں کو بے رحمی اور سفاکیت سے موت کے گھاٹ اتارنے والے اسرائیل کیخلاف عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری کی ناکامی نہایت افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسجدِ اقصی پر قابض ریاست اسراٸیل کے خلاف پاکستان کا قومی موقف قائدِاعظم کے تعین شدہ اصولوں پر مبنی ہے۔ عوامی مینڈیٹ روند کر پچھلے دو سالوں بالخصوص 8 فروری کے بعد سے اقتدار پر وہ افراد قابض ہیں جن کا اسرائیل کے متعلق کردار نہیایت مشکوک ہے۔

ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ مشرق وسطی میں عالمی قوتوں کی مدد سے اسرائیل نے انسانیت کیخلاف جرمناک کارروائیاں کی ہیں جس سے عالمی قوانین کو خطرہ ہوا ہے، جبکہ وہ اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات اور ملکی پالیسی کے ذریعے فرار ہونے کی ناجائز کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ غزہ میں مقبوضہ آبادی پر اسراٸیل کی ظلم و ستم اور حملوں کے خلاف قوم کے دلی جزبات کو بے علمی کی نذر کر دیا گیا اور بے جان بیانات جاری کیے گٸے۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ فلسطین کے علاوہ اسرائیل کی دیگر مسلم ممالک کیخلاف جارحیت کی بھی نازک لفظوں میں مذمت کی گئی، تاکہ بیرونی آقاؤں کو خوش کیا جا سکے۔ عالمی قوانین کی شدید خلاف ورزی کرنے والی ریاست اسراٸیل کے خلاف ایران کے جوابی اقدام پر پاکستان دفترِ خارجہ نے اپنے بے جان بیان میں اسرائیل کا نام تک نہیں لیا جس کے لیے ہمارا پاسپورٹ تک کار آمد نہیں ہے۔

آخر میں ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف غزہ میں اسراٸیلی جارحیت کو روکنے اور فوری جنگ بندی کے لیے عالمی برادری اور تمام مسلم ممالک سے کردار کا مطالبہ کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی معاہدوں اور اہلِ فلسطین کی امن کی روشنی میں مسٸلہ فلسطین کے حل کے بغیر اسرائیل کے خلاف قومی موقف میں رتی برابر تبدیلی کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا، اقتدار پر غیر منتخب حکومت کو اس معاملے میں سودہ بازی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاٸے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں