ایرانی صدر 22 اپریل کو 2 روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی 22 اپریل بروز پیر کو دو دن کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ یہ دورا نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ان کا ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کے بعد پہلا غیر ملکی دورہ ہو گا۔

تفصیلات کے مطابق، ابراہیم رئیسی نے نئی حکومت کے قائم ہونے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا ہے۔ اس دورے میں ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن کے ترقیاتی منصوبے پر بات چیت ہو گی اور امریکہ کی جانب سے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے اختیارات پر بھی غور کیا جائے گا۔

دورانیہ کے شیڈول کا مکمل اعلان ابھی تک اسلام آباد اور تہران کی جانب سے نہیں ہوا، لیکن متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ اسلام آباد کا منصوبہ تصدیق شدہ ہے۔ صدر رئیسی اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی بات چیت میں حالیہ پیشرفت اور علاقائی سلامتی کی صورتحال واضح طور پر ظاہر ہو گی۔

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے دورہ کرنے والے صدر کے اعزاز میں خصوصی دعوت کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانا ہے، خاص طور پر جب جنوری کے میزائل تبادلے کی وجہ سے معاشی اور سیاسی دھچکا لگا تھا۔

ذرائع کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کے دورے کے دوران مختلف موضوعات پر بات چیت کی جائے گی۔ ان کے ایجنڈے میں دو طرفہ تعلقات، سیکورٹی تعاون، گیس پائپ لائن اور امکانی آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) شامل ہیں۔ ایرانی صدر کے دورے کے دوران دونوں فریقین افغانستان کی صورتحال اور فلسطین جیسے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں