سلامتی کونسل اجلاس میں چین نے ایرانی حملےکاذمہ دار اسرائیل کو قرار دیدیا

ایران کا اسرائیل پر میزاٸل اور راکٹ حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس رسمی کارواٸی کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔ سلامتی کونسل میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع پر مزید بحث بعد میں کی جائے گی۔ چین نے اسرائیل کو ایرانی حملے کا ذمہ دار ٹھرایا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ بہت بڑے خطرے اور تباہی کے دہانے پر ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ تحمل اور صبر کا مظاہرہ کریں، غزہ میں جاری جنگ بندی، اسرائیلی حکومت کی جبری رہائی اور امداد کی فراہمی سب کی ذمہ داری ہے۔

امریکا کے نمائندہ رابرٹ ووڈ نے کہا کہ سلامتی کونسل ایران اور اس کے ساتھیوں سے حملوں کوبند کرواٸے، اور ایران کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران یا اس کے متعلقہ افراد امریکا یا اسرائیل کے خلاف کارروائی کریں گے، تو انہیں ذمہ دار سمجھا جائے گا، جبکہ امریکا انٹرنیشنل کمیونٹی میں ایران کے خلاف اور اس کا جواب دینے کے لیے مزید اقدامات کرے گا۔

ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا کہ ان کا آپریشن اپنے دفاعی حق میں تھا اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی جارحیت کا جواب فوجی اہداف کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنا کر دیا گیا۔

ایرانی سفیر نےمزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تو ایران کو ردعمل کا حق ہو گا۔ انہوں نے امریکا، برطانیہ، اور فرانس کی سیاست پر تنقید کی اور ان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک فلسطینی عوام کی نسل کشی کو قانونی طور پر مسترد کرنے کے بجائے اسے قبول کر رہے ہیں۔

اجلاس میں چینی مندوب دائی بِنگ نے گزشتہ ماہ دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ اسی حملے کے نتیجے میں اسرائیل کو ایرانی حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو اسرائیلی سرزمین پر حملے کے لیے اُکسایا، جو شیطانی نوعیت کا تھا۔ اسرائیل پر ایرانی حملے کے باعث چینی قیادت نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تا کہ انسانی المیے کی حفاظت ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں