بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے پاکستانی سٹوڈنٹس کے لیے پی ایم ڈی سی کا اہم فیصلہ

ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن (WFME) کے صدر ریکارڈو لیون بارکیز Ricardo León-Bórquez نے وفاقی سیکرٹری وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن (NHSR&C) افتخار علی شلوانی اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے صدرڈاکٹر رضوان تاج سے ملاقات کی ہے۔ میٹنگ جس میں کنسلٹنٹ پی ایم ڈی سی برائے بین الاقوامی رابطہ فرزند نے بھی شرکت کی میں طبی تعلیم کے معیار، غیر ملکی طبی اداروں سے تعلیم یافتہ پاکستانی طلباء کی رکگنیشن، اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طبی طلباء کی فلاح و بہبود سے متعلق مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔

ملاقات کے دوران سیکرٹری افتخار علی شلوانی اور صدر پی ایم ڈی سی نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ، پی ایم ڈی سی اور پاکستان میں میڈیکل اداروں کے درمیان قریبی تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ملک کی طبی انسانی وسائل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس طرح کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ پی ایم ڈی سی کے کام کی تعریف کرتے ہوئے سکریٹری نے کہا کہ پی ایم ڈی سی ایک خود مختار ادارہ ہے جو میڈیکل کے طلباء اور پریکٹیشنرز کے مشکلات کو دور کرنے کے لیے موثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔

ملاقات میں غیر ملکی میڈیکل اداروں، خاص طور پر وہ جو کہ ایکریڈیٹیشن ایجنسیوں کے ذریعہ تسلیم شدہ نہیں، میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء کی رکگنیشن کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ سیکرٹری افتخار علی شلوانی اور صدر پی ایم اینڈ ڈی سی نے ان طلباء کو پاکستان واپس آنے پر رکگنیشن حاصل کرنے میں درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی میڈیکل طلباء کی فلاح و بہبود اور ان کی شناخت کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور انہیں درپیش چیلنجوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ڈبلیو ایف ایم ای کے صدر نے کہا کہ ان کی تنظیم کی میڈیکل سکولز کی ڈائرکٹری اداروں کی ریکگنیش سےقطع نظر کسی ملک میں اداروں کی کل تعداد کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تسلیم شدہ ایجنسیوں سے میڈیکل اداروں کی ایکریڈیٹیشن تفصیلات ڈائریکٹری میں شامل کرنے پر کام جاری ہے۔

افتخار علی شلوانی نے پاکستان کی ایکریڈیٹیشن ایجنسی کے تحت بیرون ملک میڈیکل اسکولوں کی رجسٹریشن کے لیے بیرونی ممالک کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک طریقہ کار کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے تجویز کیا کہ ایسے غیر ملکی میڈیکل اداروں کے لیے ایک ٹائم لائن مقرر کی جائے جنہیں ایکریڈیٹیشن ایجنسیوں نے تسلیم نہیں کیا، جس کے بعد ان اداروں میں داخلہ لینے والے پاکستانی طلباء کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

تینوں معززین نے پی ایم ڈی سی اور دیگر ممالک کی ایکریڈیٹیشن ایجنسیوں کے درمیان براہ راست بات چیت کی سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا تاکہ ریکگنیش مسائل کے حل کو تیز کیا جا سکے اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی میڈیکل طلباء کے لیے مستقبل میں درپیش چیلنجز کو ختم کیا جا سکے۔

ملاقات میں بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن ایجنسیوں پر مشتمل ایک فورم کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔ یہ فورم بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی میڈیکل طلباء کو درپیش ریکگنیش سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے اور حل کرنے کے لیے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں