سول جج کی اہلیہ نے ملازمہ رضوانہ تشدد کیس کو من گھڑت پراپیگنڈا قرار دے دیا

ڈسڑکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا گیا

ملزمہ سومیا عاصم نے کہانی من گھڑت قرار دے دی، درخواست میں انہوں نے موقف اپنایا کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے میرے گھر میں ملازمہ تھی، ایف آئی آر میں بیان کی گئی کہانی درست نہیں

سومیا عاصم کی درخواست میں کہا گیا کہ رضوانہ پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا،تفتیش میں اپنے موقف کو درست ثابت کروں گی

سومیا عاصم کا کہنا ہے کہ رضوانہ کی عمر سترہ سال سے زائد ہے اور رضوانہ کیساتھ اپنے نو سے بارہ سال کے تین بچوں کی طرح ہمیشہ نرمی سے پیش آتی رہی ہوں

ملزمہ سومیا عاصم کا کہنا ہے کہ مبینہ وقوع سے پہلے جب سے رضوانہ میرے پاس کام کررہی ہے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی، حقائق کو توڑ مروڑ کر میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے

ملزمہ سومیا عاصم کا موقف ہے کہ میں بھی منفی مہم کی متاثرہ ہوں جو میرے اچھی شہرت کے حامل شوہر سول جج کیخلاف چلائی جارہی ہے، اس ذہنی ٹراما کی وجہ سے مجھے شدید مشکلات کا سامنا ہے، تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہوں

ملزمہ سومیا عاصم نے موقف اپنایا کہ بدنیتی کی بنیاد پر کیس میں پھنسایا جارہا ہے، ملزمہ سومیا عاصم
پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں

استدعا کی گئی ہے کہ ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں