سٹوڈنٹس ایم ڈی کیٹ میں مزید تاخیر کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں؟

ایم ڈی کیٹ کے انعقاد میں 7 روز باقی ہیں اور ملک بھر میں سٹوڈنٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پر مسلسل پی ایم سی کو پکارا جا رہا ہے کہ ان کو مزید دو ہفتوں کا وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنی تیاری مکمل کر سکیں

پی ایم سی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کچھ ہی دیر پہلے باقاعدہ پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ ایم ڈی کیٹ میں مزید تردید ہوگی تاہم سٹوڈنٹس کی جانب سے مطالبہ مزید زور پکڑ رہا ہے

جویریہ عزیز نامی سٹوڈنٹ کی جانب سے پی ایم سی کی ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے گائیڈ لائنز شئیر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارہ اس حوالے سے شرم کرے اور بچوں کے درد کا احساس کرے

سٹوڈنٹ یونین نامی اکاونٹ سے مسلم لیگ ن کی رکن قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ سٹوڈنٹس کے درس کو سمجھیں اور ایم ڈی کیٹ میں مزید تاخیر کے لیے عملی اقدامات کریں

منصور علی نامی صارف نے پی ایم سی کی جانب سے ایم ڈی کیٹ میں تاخیر کی خبروں پر جاری ردعمل پر کہا کہ صدر پاکستان میڈیکل کمیشن کا رویہ اب سابق نائب صدر علی رضا جیسا ہے

ثمر نامی صارف نے لکھا کہ صدر پی ایم سی سٹوڈنٹس کا مستقبل تباہ کرنا چاہتے ہیں

مروہ نامی صارف نے لکھا کہ ایم ڈی کیٹ 2 ہفتوں کے لیے ملتوی ہونے سے پی ایم سی کا کچھ نہیں بگڑے گا تاہم اس سے سٹوڈنٹس کا مستقبل ضرور محفوظ ہوجائے گا

ایمل خان نامی صارف نے بھی ایم ڈی کیٹ میں تاخیر کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی کیوز میں ہونے والی کنفیوژن کو وجہ قرار دیا

کنیزہ فاطمہ نے لکھا کہ اگر یہ چند سٹوڈنٹس کا سوال ہوتا تو الگ بات تھی لیکن اب یہ ہزاروں سٹوڈنٹس کے مستقبل کا سوال ہے

بلال یوسفزئی نامی صارف نے لکھا کہ چونکہ عمران خان کی جانب سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے اور سٹوڈنٹس کو سینٹرز میں پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے اس لیے ایم ڈی کیٹ کو دو ہفتوں کے لیے ملتوی کیا جائے

عریشہ نامی صارف نے تجویز دی کہ ایم ڈی کیٹ 20 نومبر کو کروایا جائے تاکہ سٹوڈنٹس کو تیاری کے لیے مزید وقت مل سکے

اپنا تبصرہ بھیجیں