سٹوڈنٹس کی جانب سے NLE کے خاتمے اور PMDC کی حمایت میں ٹاپ ٹرینڈ

میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کی جانب سے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی بحالی کا ٹرینڈ ایک بار پھر ٹاپ پر آگیا، گزشتہ روز ہونے والی سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے صحت میں سلیم مانڈوی والا کی جانب سے کہا گیا تھا کی ہر صورت بروز پیر پی ایم ڈی سی ترمیمی بل ووٹنگ کے لیے سینیٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا اور پی پی پی اراکین کمیٹی کی جانب سے چئیرمین کمیٹی پر زور دیا گیا تھا کہ وہ کمیٹی سے بل پاس ہونے کے بعد رپورٹ سینیٹ میں پیش کریں تاکہ اس کے بعد بل پر باضابطہ طور پر ووٹنگ کروائی جاسکے

منصور نامی صارف کی جانب سے پی ایم سی کے سوالنامہ بینک کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے جس پر انہوں نے وفاقی وزیر صحت اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی بھی اس پر توجہ مبذول کروائی ہے

محمد احمد کی جانب سے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا کہ میڈیکل کمیونٹی ہمیشہ آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی اور ہم اب کامیابی سے بس ایک قدم دور ہیں

ڈاکٹر فاطمہ اور ڈاکٹر بلال نامی صارفین کینجانب سے چئیرمین سینیٹ کمیٹی برائے صحت ڈاکٹر ہمایوں مہمند کو تنبیہ کی گئی کہ وہ پی ایم ڈی سی ترمیمی بل کے آڑے آنے سے باز رہیں بصورت دیگر ان کے خلاف احتجاج کیا جائے گا

بی ڈی ایس ڈائریز نامی اکاؤنٹ سے ٹویٹ میں کہا گیا کہ یہ ہمارے حقوق کی جنگ ہے اور ہم پی ٹی آئی کی بری پالیسیز کے خلاف لڑتے رہیں گے اور پی ایم سی سے چھٹکارا حاصل کرکے رہیں گے

ہیتیش ستلانی صارف نے مطالبہ کیا کہ پی ایم ڈی سی بل کو سینٹ میں پیش کیا جائے تاکہ ڈاکٹرز کو آر ایم پی مل سکے

سٹوڈنٹ یونین نامی اکاؤنٹ سے شکر ادا کیا گیا کہ کل پی ایم ڈی سی بل کو سینیٹ ایجنڈا میں شامل کر لیا گیا ہے

زاہد وزیری صارف کی جانب سے بھی کل ہونے والے سینیٹ اجلاس میں پی ایم ڈی سی بل پیش ہونے کی خبر سنائی گئی اور حکومت کا ڈاکٹرز، بی ڈی ایس،ایم بی بی ایس سٹوڈنٹس کے ساتھ وعدہ پورا ہونے پر شکریہ ادا کیا گیا

واضع رہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے کونسل اجلاس کی جانب سے 13 یا 20 نومبر کو ایم ڈی کیٹ کروانے سمیت فارن گریجویٹس کے لیے این ایل ای کی پاسنگ پرسینٹیج کم کرنے سمیت لوکل گریجویٹس کے لیے این ایل ای کو ایم بی بی ایس کے آخری امتحانات میں ضم کرنے کا فیصلہ دیا گیا تھا تاہم سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز کی جانب سے مسلسل یہ ہی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پی ایم ڈی سی کے تحت ایم ڈی کیٹ امتحانات کا انعقاد کروایا جائے جبکہ این ایل ای کا لوکل گریجویٹس کے لیے مکمل خاتمہ کیا جائے اسی طرح فارن میڈیکل گریجویٹس بھی پی ایم سی کے کئی فیصلوں سے نالاں نظر آتے ہیں

سٹوڈنٹس کی جانب سے سوشل میڈیا پر مختلف تجاویز اور تبصرے کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ پی ایم سی کو جلد از جلد ختم کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی کو بحال کیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں