تمام تر مشکلات کے باوجود میرٹ اور بہادری کا دوسرا نام عائشہ زہری بلوچستان کی پہلی خاتون ڈی سی بن ہی گئیں

وزیر اعلی بلوچستان کی جانب سے عائشہ زہری کو بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیا، عبد القدوس بزنجو کی جانب سے کیے گئے ٹویٹ میں کہا گیا کہ
“خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں خواتین کو بااختیار بنانا اور انکی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا ہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، صوبے میں پہلی خاتون افسر کی بحثیت ڈپٹی کمشنر تعیناتی صوبے کی خواتین کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار ہے ۔عائشہ زہری کی مزید کامیابیوں کے لیۓ دعا گو ہوں”

گزشتہ روز جب وزیر اعظم شہباز شریف بلوچستان میں سیلاب زدگان سے ملنے پہنچے تو متعلقہ افسران اور وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے عائشہ زہری کی خدمات کا اعتراف دیکھ کر شہباز شریف نے پہلے تو ان کو سر پر پیار دیتے ہوئے سراہا بعد ازاں تالیاں مارنے پر بھی مجبور ہوگئے

اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے بی بی نانی کے مقام پر مسلسل 36 گھنٹے ہونے والی بارش کے بعد سیلابی صورتحال میں پھنسے شہریوں کی دیکھ بھال کا ذمہ اٹھایا گیا اور بخوبی نبھایا بھی گیا، ان کی جانب سے بروقت امدادی سرگرمیوں اور بھوک پیاس میں بے ہوش افراد کو ریسکیو کیا گیا اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بہترین خدمات سرانجام دینے پر دو خاتون افسران اے ڈی سی نوشہرہ مس وزیر اور اے سی زہری کا ذکر سوشل میڈیا صارفین کی پوسٹس کا بھی حصہ بنا، دونوں خواتین کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ان کو خوب داد دی گئی

وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے عائشہ زہری کی خدمات کے اعتراف میں ان کو صوبے کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر نصیر آباد تعینات کر دیا گیا ہے

انجنئیر عائشہ زہری کون ہیں؟؟؟

2007 میں پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کرکے صوبائی سول سروس کا حصہ بننے والی عائشہ زہری کا تعلق بلوچستان کے ہی ضلع حضدار سے ہے حضدار انجنئیرنگ یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجئرنگ کرنے والی عائشہ زہری کو دو مرتبہ یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ ہونے کا اعزاز بھی ملا

خاتون افسر کے کرئیر کا آغاز واپڈا میں بطور او ایس ڈی ہوا تاہم 2017 میں وہ صوبائی سول سروس کا امتحان دیکر بیوروکریسی کا حصہ بن گئیں، ابتدائی طور پر ان کی جانب سے کمشنر قلات کے سٹاف افسر کے طور پر خدمات سرانجام دی گئیں بعدازاں ان کا شمار صوبے کی اولین تین اسسٹنٹ کمشنرز میں ہوا

اس سے قبل عائشہ زہری ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین میں بطور اے سی تعینات رہیں جہاں انہوں نے لیویز کے ہمراہ مسلح گروہوں کے خلاف کئی کاروائیوں سے شہرت پائی، فائرنگ کے تبادلے کے بعد ان کی جانب سے ایک مغوی بچے کو بھی بازیاب کروایا گیا

عائشہ زہری پر دوران سروس مشکل وقت تب آیا جب انہوں نے بطور اے سی دالبندین چھاپہ مار کر منشیات برآمد کیں تاہم جب وہ برآمد شدہ کیمیکلز لیکر تھانے پہنچیں تو لیویز حکام کی جانب سے مقدمہ کے اندراج سے انکار کر دیا گیا اور با اثر افراد کی مداخلت کے بعد خاتون افسر کو بھی محکمانہ کاروائی کا سامنا کرنا پڑا، ڈپٹی کمشنر کا نام لیکر تنقید کرنے پر ان کو بطور اے سی عہدے سے ہٹا دیا گیا اور ڈیڑھ سال تک کسی بھی اہم عہدے پر تعینات نہ کیا گیا

بعدازاں خاتون افسر کو اے سی مستونگ اور سول سیکرٹریٹ میں بطور سیکشن افسر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جبکہ کچھ ماہ قبل ہی وہ گریڈ 17 سے گریڈ 18 میں پرموٹ ہونے میں کامیاب ہوئیں

عائشہ زہری کو کرئیر کے آغاز میں ہی معاشرتی تبصروں کا نشانہ بنایا گیا، واپڈا کی ملازمت میں انہیں کھمبے پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کرنے کا مشورہ دیا گیا تو سول سروس میں بھی ان کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھائے گئے

عائشہ زہری 6 ماہ سے زائد کسی بھی اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر تعینات نہ رہ سکیں جس کی بنیادی وجہ ان کا بے باک اور نڈر پیشہ وارانہ رویہ تھا جس میں وہ بغیر سیاسی و حکومتی پریشر کے اپنی خدمات سرانجام دیتی رہیں

تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کار اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر صوبے کی پہلی ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری کے لیے سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں