نوشہرہ کی سیلابی صورتحال میں چٹان کی مانند سامنے کھڑی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نوشہرہ مس وزیر

پاکستان میں سیلاب کسی ایک صوبے تک نہیں تقریبا کسی نہ کسی صورت میں ہر صوبے میں موجود ہے جس کے نتیجے میں 14 جون سے اب تک این ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق 1033 افراد جاں کی بازی ہار چکے جن میں 456 مرد 206 خواتین اور 348 بچے شامل ہیں اسی طرح زخمیوں کی تعداد بھی 1600 کے قریب پہنچ چکی ہے

اس صورتحال میں حکومتوں اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم مصیبت کی اس مشکل ترین گھڑی میں جب ہر کوئی سیلاب زدہ علاقوں سے نقل مکانی کی جلدی میں ہے پاکستان کی ایک بیٹی جو خیبرپختونخواہ کے ضلع نوشہرہ میں بطور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے فرائض سرانجام دے رہی ہے وہ قوم کی آنکھوں کا تارا بن کر ابھری ہیں

قرات العین وزیر نامی یہ بیوروکریسی کی اعلی افسر ایک پل بھی سانس لیتی نظر نہیں آتیں، وہ کبھی سیلاب زدگان کے گھروں میں جاکر ڈور ٹو ڈور کمپین میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے درخواست کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی اسی مقصد کے لیے مساجد میں اعلان کرنے خود ہی پہنچ جاتی ہیں

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نوشہرہ کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے قائم کیے گئے شیلٹر سینٹرز کو محفوظ اور پرسکون بنانے کے لیے سہولیات کا ہر گھنٹے بعد جائزہ لیا جانا بھی اس قوم کی بیٹی کا فرائض کی ادائیگی کی جانب مکمل دھیان اور قومی جذبے کو ظاہر کرتا ہے

سوشل میڈیا پر خاتون افسر کو سراہنے کے لیے صارفین کی پوسٹس کا ایک سیلابی ریلا گزرتا نظر آتا ہے

انٹل کنسورشیم کی جانب سے نوشہرہ کو محفوظ رکھنے کا کریڈٹ خاتون افسر کو دیتے ہوئے لکھا گیا کہ ان کی بہترین قائدانہ اور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے ایک بڑا شہر اس قدرتی آفت سے محفوظ رہا

https://twitter.com/INTELPSF/status/1563612957669736448?t=3tdRBTguLOzHwyYVS43sqg&s=19

اختر علی نامی صارف جو کہ پیشے کے اعتبار سے وکیل بھی ہیں ان کی جانب سے بھی خاتون افسر کی کاوشوں کو سراہا گیا، لکھا گیا کہ یہ دریائے کابل کے اردگرد موجود رہائشیوں کو وہاں سے نکالنے اور محفوظ مقام تک منتقل کرنے کے لیے خاتون افسر نے وہ سب کیا جو ممکن تھا

سروائور نامی ایک صارف کی جانب سے خاتون افسر کو “آئرن لیڈی” قرار دیا گیا

نفیس الرحمن دورانی کی جانب سے اے ڈی سی نوشہرہ کی مسجد میں اعلان کی ویڈیو شئیر کرتے ہوئے لکھا گیا کہ “ایسے مناظر بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کسی خاتون کی جانب سے مساجد میں اعلانات کیے جا رہے ہوں، انہوں نے لکھا کم از کم خیبرپختونخواہ کی تاریخ میں یہ خاتون تاریخ رقم کر رہی ہیں”

سمرینا ہاشمی نے لکھا کہ خواتین کو اگر کام کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ سب کر سکتی ہیں، ان کی جانب سے قرات العین کی ڈور ٹو ڈور کمپین کی ویڈیو بھی شئیر کی گئی

پاک آرمی کے جوانوں کے ہمراہ فرائض سرانجام دیتی مس وزیر کو محمد علی نامی صارف کی جانب سے بھی سیلوٹ کیا گیا

https://twitter.com/AliAbbasiatd/status/1563513505760047105?t=eVsMjLbWnmCz6-GrKM-KdQ&s=19

ہزاروں کی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خاتون افسر کے کام کو نہ صرف سراہا جا رہا ہے بلکہ ان کو مختلف القابات سے بھی پکارا جا رہا ہے

اس ساری صورتحال میں مس وزیر بھی اپنے سوشل میڈیا سے صارفین کو لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں 23 گھنٹے پہلے شئیر کی گئی ویڈیو میں ان کی جانب سے بتایا گیا کہ “کئی دوروں کے بعد آخرکار کشتی پل کے مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے”

نہ صرف سیلابی صورتحال میں بلکہ اس سے قبل بھی خاتون افسر ضلع کے مسائل حل کرنے میں پیش پیش نظر آتی رہی ہیں

ڈی سی نوشہرہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے کیے گئے لائیو سیشن میں مس وزیر شہریوں کے مسائل کو سنتی اور حل کرواتی نظر آتی رہی ہیں

واضع رہے کہ قرت العین وزیر (مس وزیر) نوشہرہ کی پہلی خاتون ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) ہیں محکمہ اسٹیبلیشمنٹ حکومت خیبر پختونخواہ کے رواں برس 13 جون کو جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق مس وزیر اس سے قبل بطور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ ) نوشہرہ اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں