پی ایم ڈی سی ترمیمی بل منظوری کے بعد اب کیا ہوگا؟ ٹویٹر پر #Pmdc ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت میں پی ٹی آئی سینٹرز نے ہاتھ کھڑے کر دئیے اور پیپلز پارٹی با آسانی اتحادی جماعتوں سوائے ن لیگ کے پی ایم ڈی سی ترمیمی بل منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔

بل منظور ہوتے ہی کمیٹی روم میں موجود پی ایم ڈی سی کے سابقہ ملازمین، میڈیکل سٹوڈنٹس اور ڈاکٹرز سمیت پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل اور سینٹرز کے چہروں پر جیسے رونق سی آگئی باہر نکلے تو میڈیا سے بات کرتے ہوئے صاف اعلان کیا کہ اب ایم ڈی کیٹ صوبائی معاملہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ لوکل پاکستانی ڈاکٹرز کے لیے این ایل ای امتحان کو بھی ختم کرنے کا اعلان کر دیا تاہم بیرون ملک سے ایم بی بی ایس کرنے والے میڈیکل گریجویٹس کے لیے لائسنسنگ امتحان کی شرط کو قائم رکھا گیا

اب صورتحال یہ بن چکی کہ کئی ماہ سے ایم ڈی کیٹ کی تیاری کرنے والے سٹوڈنٹس کی یہ سمجھ سے باہر ہے کہ وہ اس خبر پر خوش ہوں یا غمگین؟ سٹوڈنٹس کی زیادہ تر تعداد اس بل منظوری کی خبر سے خوش نظر آتی ہے گزشتہ روز ٹویٹر پر ٹرینڈنگ کرتے ہوئے ان کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایم ڈی کیٹ سے قبل پی ایم ڈی سی کو بحال کیا جائے تاکہ اس سال ایم ڈی کیٹ پی ایم سی کی بجائے نئی باڈی لے اب سوال یہ ہے کہ کیا 7 تاریخ سے شروع ہونے والے ایم ڈی کیٹ امتحانات کو پی ایم ڈی سی کے تحت منعقد کرنا ممکن ہے؟

اس حوالے سے مختلف ٹویٹر سٹوڈنٹس صارفین کی جانب سے اس وقت #PMDC ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے جہاں پی ایم ڈی سی کے حوالے سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں

عدنان خان نامی صارف سٹوڈنٹس کو ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے فیک نیوز پر دھیان نہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں

ایک میڈیکل سٹوڈنٹ کی جانب سے لکھا گیا کہ وہ تمام لوگ جن کا ایم ڈی کیٹ سے کوئی لینا دینا نہیں وہ پی ایم ڈی سی کی واپسی پر جشن منا رہے ہیں میرا تین ہفتے بعد امتحان ہے یہ سب بند کیا جائے

ایک اور صارف کی جانب سے لکھا گیا کہ اب جب ہم سب پی ایم سی کے تحت ہونے والے ایم ڈی کیٹ کی تیاری مکمل کر چکے تو پی ایم ڈی سی آگیا ان کی جانب سے اس ساری قانون سازی کو سیاسی مفادات کے ساتھ جوڑا گیا

توبہ نامی صارف کی جانب سے پی ایم ڈی سی کی واپسی کو اپنے خواب کی تعبیر کے ساتھ جوڑا گیا

مختلف صارفین کی جانب سے پی ایم ڈی سی کے حوالے سے مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں تاہم اس صورتحال میں پی ایم سی حکام خاموش دکھائی دیتے ہیں جس وجہ سے فیک نیوز کا راج عام دکھائی دیتا ہے جس میں سٹوڈنٹس کو پی ایم ڈی سی کے حوالے سے مختلف من گھڑت خبریں دیکر ان سے لائکس وصول کیے جا رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں