کل سینیٹ سیشن میں پی ایم ڈی سی ترمیمی بل منظور کیا جائے، سٹوڈنٹس کا ٹویٹر پر مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے کل صبح گیارہ بجے سینیٹ کا اجلاس طب کر لیا گیا، اجلاس طلب ہونے کی خبر سامنے آتے ہی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینیٹل کونسل ترمیمی بل کی حمایت میں ایک بار پھر میڈیکل سٹوڈنٹس سوشل میڈیا پر ایکٹو ہوگئے

سٹوڈنٹس کی جانب سے ٹویٹر پر #RestorePMDCbeforeMDCAT کا ٹرینڈ بنا دیا گیا، میڈیکل سٹوڈنٹس کی جانب سے امید کی جا رہی ہے کہ کل ہونے والے سینیٹ اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے صحت میں پھنسے پی ایم ڈی سی ترمیمی بل کو حکومت پاس کروانے میں کامیاب ہو جائے گی جس کے بعد سٹوڈنٹس کو پی ایم ڈی سی صوبائی سلیبس کے تحت دینے کا موقع میسر آسکے گا

اس ٹرینڈ میں نہ صرف ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے والے سٹوڈنٹس ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے بات کرتے نظر آرہے ہیں بلکہ ایم بی بی ایس مکمل کر لینے والے ڈاکٹرز بھی این ایل ای ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں

ایک صارف ڈاکٹر سیرت علی نے لکھا کہ کل کے سینیٹ سیشن میں پی ایم ڈی سی کو بحال کیا جائے ان کی جانب سے این ایل ای کو مستقبل میں خیر آباد کہنے کا بھی مطالبہ کیا گیا

ایم ایس ایم آزاد کشمیر کی جانب سے بھی ایک ٹویٹر پوسٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ ایم ڈی کیٹ سے پہلے پی ایم سی کو ختم کیا جائے، انہوں نے کہا کہ بصورت دیگر سینیٹ میں بیٹھے کچھ افراد سٹوڈنٹس کا مستقبل تباہ کر دیں گے

ایک صارف بلال یوسفزئی کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ 23 دن تک جاری رہنے والے ٹیسٹ کی کیا ٹرانسپیرنسی ہے؟

ذرائع کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے کل ہونے والے اجلاس میں ہر صورت کوشش کی جائے گی کہ ترمیمی بل کو پاس کروا لیا جائے تاہم ابھی تک مسلم لیگ ن اس سارے عمل میں پی پی کے ساتھ کھڑی نظر نہیں آتی دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے بھی پی ایم سی کو بچانے کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے

واضع رہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے بورڈ کا اہم اجلاس کل ہوگا جس میں این ایل ای کی پرسینٹیج میں کمی کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں